مقام پنجتن پاک علیہم السلام،اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت اور تکریم و تعظیم قرآن مجید...

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت اور تکریم و تعظیم قرآن مجید کی رو سے ہر مسلمان پر فرض ہے اور پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولاد پاک یعنی اہل بیت علیہ السلام عظام کی محبت اور عزت و احترام بھی ایک لازمی امر ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث مبارکہ میں خود پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منصب کی طرف توجہ دلائی ہے۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام  عثمان غنی کی وفات کے بعد منظم طور پر اہل بیت عظام کی شان گھٹانے کی کوششیں شروع ہو گئیں اور اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کو جن مشکلات، مصائب اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا وہ تاریخ اسلام کا ایک سیاہ باب ہے۔

بنو امیہ کی طرف سے منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اہل بیت عظام علیہ السلام کی طعن و تشنیع اور ہتک و توہین کے واقعات کو مسعودی، ابن خلدون اور شاہ معین الدین ندوی کے علاوہ دیگر مورخین اسلام نے اپنی تاریخوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ظلم و استبداد کے اس تاریک دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین تابعین تبع تابعین ، اولیائے کرام اور علمائے مستر شدین نے امت محمدیہ کو اہل بیت عظام کی عظمت و رفعت اور قدر و منزلت سے آگاہ کرنے کے لئے جو خدمات سرانجام دیں وہ ہماری تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے۔

حضرت علامہ ابن حجر مکی اپنی کتاب "صواعق محرقہ" صفحہ 414 پر اہل بیت عظام کی شان میں گستاخیوں اور بے ادبیوں کے آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "بنی امیہ کا ایک گروہ آپ کی تنقیص کرنے لگا اور منبروں پر آپ کو گالیاں دینے لگا اور ملعون خوارج نے ان کی موافقت کی بلکہ انہوں نے آپ کو کافر تک کہا تو اہل سنت کی جلیل القدر حفاظ امت کی خیر خواہی اور حق کی نصرت کے لئے آپ کے فضائل کی نشر و اشاعت میں لگ گئے۔"

حضرت علامہ اسماعیل نبھانی رحمۃ اللہ علیہ اس ضمن میں اپنی کتاب "برکات آل رسول" صفحہ 129 پر رقم طر از ہیں:

"بنو امیہ نے آپ کی تنقیص کی تو جس جس صحابی کو آپ کے مناقب کا علم تھا اس نے بیان کر دیا جوں جوں انہوں نے آپ کے ذکر کو مٹانے کی کوشش کی اور آپ کے مناقب بیان کرنے والے کی سرزنش کی آپ کے مناقب اتنے ہی زیادہ پھیلتے رہے۔"

چنانچہ آج پھر دشمنان اہل بیت کا ٹولہ سرگرم ہوکر محراب و منبر پر علی الاعلان آل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ اللہ الکریم خصوصاً حضرت امیرالمومنین امام اولیاء جناب حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اور حسنین کریمین علیہ السلام اجمعین کو ہدف تنقید بنا رہا ہے۔ لہذا امت محمدیہ کی خیر خواہی کے لیے اہل بیت عظام کی مقام و منصب سے انہیں آگاہ کرنا اس وقت انتہائی ضروری اور لازمی ہے تاکہ عوام و خواص اس شر سے بچ جائیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر راقم الحروف نے حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب " خصائص نسائی شریف" کی شرح " انوار علی" کے نام سے کی ہے جس میں امام الاولیاء حضرت علی مرتضی علیہ السلام، سیدۃ النساء حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور حسنین کریمین علیہم السلام کے فضائل و مناقب پر مشتمل 1193 احادیث اور آثار صحابہ کرام رضی اللہ کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

آیت مودۃ:

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت عظام علیہ السلام سے محبت کرنے کا حکم ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے:

"پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما دیجئے کہ میں تم سے اس پر اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔"

(اردو ترجمہ کنزالایمان)

اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اے میری امت میں نے تمہیں یہ جو دین اسلام کی تبلیغ کی ہے اور اپنے حقیقی رب اللہ تعالیٰ کی طرف تمہاری رہنمائی کی ہے تو میں اس پر تم سے کوئی اجرت  نہیں مانگتا لیکن یہ کہتا ہوں کہ تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو۔

اہل بیت علیہ السلام کون ہیں؟؟

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی نے " درمنشور" اور دیگر مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوۓ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ سے روایت نقل کی ہے:

"صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟"

تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"جناب علی المرتضی علیہ السلام، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کی اولاد یعنی حسنین کریمین علیہ السلام۔"

ابن عساکر نے حضرت علی علیہ السلام کی روایت سے بیان کیا ہے کہ " رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو میرے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ احسان کرے گا میں اس کا بدلہ اسے قیامت کو دوں گا۔

حضرت علی علیہ السلام:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں جناب امیر المومنین شیر خدا حضرت علی علیہ السلام کی محبت و عظمت اور آپ کی ساتھ حسد و بغض سے بچنے کی تلقین ان الفاظ میں فرمائی:

"میں جس کا محبوب ہوں علی بھی اس کا محبوب ہے، اے اللہ! جو اس سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔"

(رواہ النسائی فی الخصائص علی)

اسی مضمون کی ایک دوسری حدیث ابویعلی اور بزاز نے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ سے یوں روایت کی ہے:

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے جناب حضرت علی علیہ السلام سے محبت رکھی بے شک اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے حضرت علی علیہ السلام سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے حضرت علی علیہ السلام کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی۔ یہی حدیث طبرانی نے حضرت ام سلمہ سے بھی بسند حسن روایت کی ہے۔

شیخین نے سعد بن وقاص رضی اللہ اور احمد و بزاز نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرما کر خود میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے اس پر لوگوں نے باتیں بنائیں کہ حضرت علی علیہ السلام کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ دیا گیا تو آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"کیا آپ اس پر راضی نہیں کہ آپ کو میرے نزدیک وہ مقام حاصل ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاں حاصل تھا ہاں فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"

طبرانی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

سیدۃ النساء فاطمۃ زہراء سلام اللہ علیہا:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جگر گوشہ بتول طاہرہ راضیہ مرضیہ جناب سید النساء فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے مناقب و محامد ان الفاظ میں فرمائے:

"فاطمہ میرے اہل بیت میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔"

(رواہ ترمذی)

"فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو ناراض کرے گا وہ مجھ کو ناراض کرے گا۔"

(رواہ البخاری)

"فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔"

(رواہ البخاری)

"فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ھے۔"

(البدایہ والنہایہ)

"فاطمہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی۔"

(کنزالعمال)

طبرانی میں سند حسن سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مخاطب کرکے فرمایا:

"جس سے تو ناراض ہو گی اللہ بھی اس سے ناراض ہوگا اور جس سے تو راضی ہو گی اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوگا۔"

متعدد صحابہ کرام نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ندا کرنے والا عرش سے ندا کرے گا اے اہل محشر اپنے سروں کو جھکا لو، اپنی آنکھیں بند کر لو تاکہ حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پل صراط سے گزر کر جنت کی طرف چلی جائیں۔

حضرت ایوب رضی اللہ سے روایت کی ھے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا ستر ہزار جنتی حوروں کے ہمراہ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گی۔

(برکات آل رسول)

حسنین کریمین علیہم السلام:

امام الانبیاء جناب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے مقام و مرتبہ کی نشاندہی ان الفاظ میں بیان فرمائی:

"حسن وحسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔"

(احمد، ترمذی، طبرانی)

"میرے یہ دونوں بیٹے حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔"

(ابن ماجہ، ابن عساکر، حاکم)

"حسن اور حسین دونوں میری دنیا کے پھول ہیں۔"

(ترمذی شریف)

"یہ دونوں حسن اور حسین میرے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں پس تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان دونوں سے محبت رکھتا ہے اس سے بھی محبت رکھ۔"

(ترمذی و ابن حبان)

"جو حسن اور حسین سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔"

(احمد، ابن ماجہ اور حاکم)

جناب سیدنا امام حسن علیہ السلام کے متعلق حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میرا یہ بیٹا سردار ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔"

(ترمذی شریف)

اور جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:

"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالی اس شخص کو محبوب رکھتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔"

(ترمذی شریف)

آیت تطہیر:

تقویٰ و طہارت بھی ایک بہت بڑی فضیلت اور خوبی ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصدقہ میں اہل بیت علیہم السلام کو بھی اس خصوصیت سے نوازا اور اس کا ذکر قرآن کریم میں یوں فرمایا:

"اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔"

(ترجمہ از کنزالایمان)

حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رجس سے مراد شیطان اور ہر وہ ہر حرکت ہے جس میں کوئی شرعی یا طبعی برائی ہو جو اللہ تعالی کو ناپسند ہو۔ بعض علماء نے رجس کے معنی شک، گناہ، نجاست اور نقائص کے بھی کیے ہیں۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت کو ان سب چیزوں سے پاک فرما دیا۔

پنجتن پاک علیہ السلام:

امام احمد بن حنبل اور امام طبرانی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"یہ آیت پنجتن پاک علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ، میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں نیز حضرت علی علیہ السلام، حسنین کریمین علیہ السلام اور حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں۔"

آیت مباہلہ:

اسی طرح آیت مباہلہ میں اللہ تعالیٰ نے آل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولاد حضرت علی علیہ السلام کی شان کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا:

"پس ان سے فرمادو آو ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تم اپنے بیٹے اور ہم اپنی عورتیں اور تمام اپنی عورتیں اور ہم اپنی جانیں اور تم اپنی جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔"

(ترجمہ از کنزالایمان)

اس آیت کریمہ کا شان نزول یوں ہوا کہ 9 ہجری میں نجران کے عیسائی مدینہ منورہ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذاتِ اقدس پر بحث مباحثہ کیا۔ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نعوذ باللہ خدا کا بیٹا کہتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں سمجھاتے رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور برگزیدہ عبد ہیں۔ عیسائی یہ بات تسلیم نہیں کرتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی توحضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنے نفس، بیٹے اور عورتیں لاتے ہیں اور تم بھی اپنی جانیں، بیٹے اور عورتیں لے کر آؤ اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

آیت در و دو سلام:

قرآن کریم میں جب صلوۃ و سلام کی حکم پر مبنی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

"بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے نبی پر، اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔"

(ترجمہ از کنزالایمان)

تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو سلام کرنا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو۔

اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید۔۔۔۔ اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید (متفق علیہ)

حدیث ثقلین:

صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ان میں سے پہلی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اس پر عمل کرنا اس طرح قرآن کریم کے متعلق ترغیب دی۔ پھر فرمایا دوسری چیز میرے اہل بیت علیہ السلام، میں تمہیں اہل بیت کے بارے میں خدا کی یاد دلاتا ہوں یہ بات تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دہرائی۔"

اہل بیت کی مثال کشتی نوح:

اسی طرح اصحاب سنن کی ایک جماعت متعدد صحابہ کرام سے راوی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"تم میں میرے اہل بیت کی مثال سفینہ نوح علیہ السلام کی مانند ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو پیچھے رہا ہلاک ہو گیا، ایک روایت میں ہے کہ غرق ہو گیا ایک اور روایت میں ہے کہ جہنم میں داخل ہوا۔"

(برکات آل رسول صفحہ 71)

صحابہ کرام اور اہل بیت عظام:

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور اکابرین اہل سنت ہمیشہ اہل بیت علیہم السلام کی تعظیم و توقیر اور محبت و عقیدت پر کاربند رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ نے کہا:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احترام کے پیش نظر اہل بیت کا احترام کرو۔"

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو جب معاویہ نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کو برا کیوں کہتے ہو؟ تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی بارے میں بیان فرمائی تھیں تو میں انہیں برا نہ کہوں گا اور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جائے تو میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو فرمایا تو میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہاں تھا۔ خیبر کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"کل جھنڈا اس کو دوں گا جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسے دوست رکھتے ہیں۔"

اور پھر جھنڈا حضرت علی علیہ السلام کو عطا فرمایا اور جب آیت ابنائنا و ابنائکم اتری تو حضرت علی فاطمہ حسن اور حسین علیہ السلام کو طلب کرکے فرمایا یہ میرے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔

(مسلم شریف)

آئمہ اہل سنت اور اہل بیت عظام:

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اہل بیت کرام کے ساتھ خصوصی محبت رکھتے تھے مصر کے ایک معروف مؤرخ شیخ ابو محمد زہرہ " حیات امام ابو حنفیہ" کے صفحہ 290 پر لکھتے ہیں:

"آپ کا طبی رجحان و میلان حضرت علی علیہ السلام کی اس اولاد کی جانب تھا جو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے بطن سے تھی اور یہی میلان آپ کی ابتلاء کا سبب ہوا۔"

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اہل بیت عظام سے حد درجہ محبت رکھتے تھے چنانچہ 138ھ میں محمد نفس ذکیہ کی حمایت کے نتیجے میں عباسی خلیفہ منصور کی طرف سے آپ کو ستر کوڑوں کی سزا دی گئی۔

(رئیس احمد جعفری، سیرت آئمہ اربعہ، صفحہ 293)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں بیان ہونے والی تمام صحیح احادیث کو جمع فرمایا اور اس کتاب کا نام "مناقب علی" رکھا۔ نیز انتہائی تقویٰ اور شریعت میں وقت نظر کے باوجود یزید کے کفر اور اس پر لعنت کے جواز کا فتویٰ دیا۔

(اسماعیل نبھانی، برکات آل رسول)

تبصرے

نام

اسلام میں خواتین کے حقوق,5,حالات حاضرہ,5,دین اسلام,8,سیرت اہل بیت,8,فقہی مسائل,2,مسلم حکمران,4,
rtl
item
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن: مقام پنجتن پاک علیہم السلام،اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مقام پنجتن پاک علیہم السلام،اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن
https://isfolibrary.blogspot.com/2020/03/blog-post.html
https://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/2020/03/blog-post.html
true
5962244918716344721
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy