حضرت مختار ثقفی کی زندگی

حضرت مختار ثقفی کی زندگی

حضرت مختار کی ولادت نام اور لقب
جناب مختیار سن ایک ہجری میں پیدا ہوئے اور 67 ہجری میں حسینیت کی راہ میں قربان ہو گئے یعنی 67 سال زندہ رہے آپ کی کنیت ابو اسحاق تھی اور لقب کیساں تھا اور یہ لقب جناب امیر علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا امیر المومنین علیہ السلام کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ جب ہم بختیار کو ان کے بچپن میں جناب امیر علیہ السلام اپنے زانو پر بیٹھے ہوئے نہایت شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے ہیں اے عقل والے اے عقل والے
خاندانی حالات
حضرت مختیار بنی ہوازن کے قبیلہ ثقیف سے تعلق  رکھتے تھے اور ثقیف ایک سر برآوردہ شخص تھے جن کی طرف قبیلہ ثقیف منسوب ہے آپ کے دادا مسعودثقفی تھے۔ آپ کے والد ابو عبداللہ سقفی بڑے جری اور شجاعت تھے خلیفہ دوم نے ان کو عراق کی مہم پر سپہ سالار بنا کر بھیجا جس اہلیت سے کارہائے نمایاں انجام دیئے اور ایک ہاتھی کے پیروں سے چل کر راہی دار بقا ہوئے۔
مفتی آر کے چچا سعد بن مسعود ثقفی بھی بڑے محبت اہل بیت علیہ السلام تھے ان کو بھی خلیفہ دو میں فاطم دین کے بعد وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا وہ خلیفہ سوم کے زمانے میں بھی اور عہد امیرالمومنین علیہ السلام میں بھی بدستور اپنے عہدے پر قائم رہے جب معاویہ کو تسلط حاصل ہوا تو اس نے ان کو موصل کا گورنر بنا دیا مگر بظاہر اہل بیت علیہ السلام  سے بے تعلق رہے ہوں گے ورنہ معاویہ کبھی ان کو کسی عہدے پر مامور نہ کرتے بلکہ اہل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دوستی و محبت کے جرم میں تلواریں یازہر سے ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیتے۔
جناب مختیار اور مودت اہل بیت علیہ السلام
جناب مختیار کے بارے میں متضاد روایات اور خبریں پائی جاتی ہیں بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محبت اہلبیت نہ تھے بلکہ قصاص خون شہداکا بہانہ کر کے حکومت اور اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے حسب ذیل روایتوں سے ان کی محبت ظاہر ہوتی ہے
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ مختیار نے ایک خط امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں لکھا اور چندہ ہدیوں کے ساتھ حضرت  علیہ السلام کی خدمت میں عراق سے روانہ کیا ان کے قاصدوں نے  در اقدس پر حاضر ہو کر اذن کیا حضرت علی نے فرمایا میں صرف گویوں کا ہدیہ قبول نہیں کرتا اور ان کا خط نہیں پڑتا وہاں سے مایوس ہوکر قاصدوں نے خط کا عنوان مٹا دیا اور اس کی جگہ لکھ دیا کہ یہ خط محمد حنفیہ ابن علی کی طرف ہے اور وہ خط اور ہدیے جناب محمد بن حنفیہ کی خدمت میں لے گئے انہوں نے وہ ہدیے قبول کئے اور خط کا جواب بھی لکھا۔
عمر بن علی ابن حسین علیہ السلام سے روایت ہے کہ پہلے مختیار نے میرے والد علی بن الحسین کے لیے بیس ہزار درہم بھیجا حضرت نے ان کو قبول فرمایا اور عقیل بن ابی طالب اور دوسرے بنی ہاشم کے مقامات جن کو بنی امیہ
 نے منہدم کر دیا تھے ان درہموں سے تعمیر کرائے۔ پھر جب مختیار نے مذہب باطل اختیار کیا اور چالیس ہزار دینار میرے والد کے لیے بھیجے تو آپ نے ان کو واپس کر دیا اور قبول نہ فرمایا ۔
مختیار کے بارے میں معصومین کے ان ارشادات کے ساتھ ان کے زمانے کے حاکمان و جوار اور ائمہ معصومین علیہ السلام اور ان کے دوستوں کے ساتھ ان کے ظالمانہ برتاؤ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد اگرچہ کسی حاکم وقت کو کسی امام سے بیعت طلب کرنے کی جرات تو نہیں ہوئی مگر ان کا وجود ان کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا اور ان کو کمزور اور بے دست و پا رکھنے کی کوشش میں حکومت اپنا سارا زور صرف کرتی رہی۔ حاکمان جوران کی زندگی اپنی حکومت و اقتدار کے لئے خطرناک ہی سمجھتے رہے کیونکہ اصلی وارث حکومت کی ذات مقدس تھے حالانکہ ان حضرات کو الہی کے سوا حاصل کی کوشش لیکن حاکمان وقت ہمیشہ ان سے بدظن رہتے اور ہر الو ہر لمحہ ان کے وجود کو مٹانے کے درپے رہتے اور ان کی تکلیف پہنچانا ہی اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے رہے۔ ان کو قید و بند میں مبتلا رکھتے اور آخر نہایت رازداری کے ساتھ ایک نا ایک دن ان کی زندگی کا خاتمہ کردیتے تھے تاکہ دنیا والے ان کے برتن کے الزام سے ان کو بری سمجھیں ان کی محبت و دوستی کے جرم میں ان کے محبوب وہ بھی حکومت کے باغی سمجھے جاتے اور قتل کا ر دئے جاتے تھے جس پر محبت اہلبیت علیہ السّلام ہونے کا شبہ بھی ہو جاتا تھا ان کی زندگی کا زہر یا تلوار سے خاتمہ کر دیا جاتا تھا۔
ائمہ اطہار اور ان کے دوستوں کی ہر حرکت و سکون پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور ان کی مجلسوں میں حکومت کے جاسوس اپنے تعیں مہیب و عقیدت پیش کر رہے تھے اور ان کے حالات سے حاکم وقت کو آگاہ کرتے رہتے اس لئے ائمہ طاہرین بھی بہت زیادہ احتیاط فرماتے تھے اور کبھی کبھی اہل خلاف کی موجودگی میں اپنے دوستوں کی برائیاں بھی بیان کر دیا کرتے تھے تاکہ حکومت کے لوگ ان کو ائمہ معصومین علیہ السلام کے خلاف سمجھ کر ان سے دشمنی نہ کریں اور ان کو اذیتیں نہ پہنچائیں۔
زرارہ بن سعید کی جو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے خاص کامل عقیدت مندوں میں سے تھے ایک مرتبہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بتایا لوگوں کے سامنے بیان کی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ آپ کے دوست نہیں ہیں یہ خبر زرارہ کو پہنچی تو انہوں نے اپنے بیٹے کو حضرت علیہ السلام کی خدمت میں بھیج کر دریافت کیا کہ مجھے ایسی خبر ملی ہے کہ آپ مجھے بتائیں کے ساتھ یاد کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے باپ سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ تم ہمارے بہترین دوستوں میں ہوں ہماری روایات کے حامل ہوں قسم خدا کی میں تم سے راضی ہو میں نے لوگوں کے سامنے تمہاری برای اس وجہ سے کی ہے کہ یہ لوگ ہمارے اور تمہارے دشمن ہیں۔ ہماری محبت کی وجہ سے ہمارے دوستوں کو طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں اور آخر ان کے قتل کو تباہی کے بیس ہوتے ہیں یہ لوگ ہمارے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں اور یہ ان کی مدح و ثنا کرتے ہیں۔اےزرارہ تمہم سے محبت کرنے میں مشغول ہوگئے ہوں اور یہ لوگ تم سے عداوت کرنے لگے ہیں اب جو ہماری زبان سے تمہارے برائی اور سنیں گے تو یہ تو ان کی حالت بدل جائے گی اور یہ تم سے دوستی کرنے لگیں گے
یہ اپنے طرز عمل سے حکومت کو کبھی ایسا موقع نہیں دینا چاہتے تھے کہ حکومت کو ظاہر باظاہر ان کے قتل کا بہانہ ملے یہی سب معلوم ہوتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے مختیار کو کھل کر خروج کی اجازت نہیں دی اور نہ خروش سے منا ہیں کیا آپ کا منع نہ کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان کے خروج سے راضی تھے چنانچہ آپ نے حملہ معلوم کے قتل کے لئے جو بد دعا فرمائی ہے اور عمر سعدوپسرزیاد کے سر جب آپ کی خدمت میں مختیار نے بھیجیے ہیں تو آپ کا سجدہ شکر کرنا اور مختار کے حق میں دعائے خیر کرنا ھمارے اس دعوے کی تائید کے لیے کافی ہے

تبصرے

نام

اسلام میں خواتین کے حقوق,5,حالات حاضرہ,5,دین اسلام,8,سیرت اہل بیت,8,فقہی مسائل,2,مسلم حکمران,4,
rtl
item
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن: حضرت مختار ثقفی کی زندگی
حضرت مختار ثقفی کی زندگی
حضرت مختار ثقفی کی زندگی
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن
https://isfolibrary.blogspot.com/2020/08/blog-post_48.html
https://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/2020/08/blog-post_48.html
true
5962244918716344721
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy