2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی

2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی

2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی

قدیم مصر کے اہراموں کا نام جب بھی آئے گا تب مصروں کے فن حنوط کاری کا ذکر ضرور آئے گا مصر اس کرہ ارض پر واحد تہذیب تھی جہاں پر مرنے کے بعد جسم کو محفوظ کرنے کے لیے باقاعدہ حنوط کاری کی جاتی تھی جس کے اثرات دیگر تہذیبوں پر بھی ہوئے کوئٹہ سے بازیافت کی جانے والی ممی کو قدیم ایران کی کی تہذیب سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قدیم ایران میں زرتشت کے دور میں مردوں کو حنوط کرنے کا رواج تھا تاہم مصری دنیا کی واحد قوم تھے جہاں ممیانے کا فن ان کے عقیدے اور مذہب کا حصہ تھا اور انہوں سے یہ فن دیگر تہذیبوں پر منتقل ہوا مصری موت کے بعد زندگی پر یقین رکھتے تھے اس لیے وہ لاش کو ممی کر کے زر و جواہر کے ساتھ دفن آتے تھے پاکستان میں بازیافت کی جانے والی ممی  کے بارے میں 26 اکتوبر سن دو ہزار کو کراچی پولیس اور قومی عجائب گھر کے عہدے داروں نے ممی کی دریافت کا اعلان باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا جس میں پولیس کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے محکمہ آثار قدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانی بھی موجود تھے۔
ممی کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ایک اٹھارہ سال کی شہزادی یا کسی اعلی خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی ممی ہے ممی کا تابوت پرانی لکڑی کا بنا ہوا ہے جس پر زر تشتوں کے نشانات بنے ہوئے ہیں یہ مقدس درخت اور مقدس پھولوں کے علامات کے نشانات ہیں یہ تابوت 196 سینٹی میٹر لمبا اور 56 سینٹی میٹر اونچا ہے ہے اندر ایک چٹائی بچھی ہوئی ہے جس پر شہزادی کی رکھی ہوئی ہے ممی کو محفوظ کرنے کے لئے اس پر گرینائٹ کی طاہر لگائی گئی ہے اسے موم اور شہد کا آمیزہ لگا کر محفوظ کیا ہے ممی کو مصری انداز میں بیٹوں سے لپٹا کیا ہے ممی کے سر پر سات لاکھ دس درختوں کا تاج ہے جس سے چہرے کے اوپر کھڑے ہوئے سنہرے ماسک کے ساتھ ملایا گیا ہے ماہرین کے مطابق سات درختوں سے ساتھ مقدس آسمانوں کو ظاہر کیا گیا ہے اس حوالے سے زرتشتیوں میں کئی مذہبی کہانیاں مشہور ہیں ممی کے سینے پر سونے کی پلیٹ لگی ہوئی ہے جس پر تکونی زبان میں تحریر موجود ہے ماہرین کے مطابق اس میں شہزادی کے بارے میں تفصیلات درج ہیں
ممی کو دیکھنے کے بعد ذہن میں سب سے پہلا جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کس کی ممی ہے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ماہرین اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں
اس ممی کے اصل تاریخ کی تصدیق سونے کی پلیٹ پر لکھی تکونی تحریر کو پڑھنے کے بعد ہی کی جاسکتی ہے  ابتدائی تحقیقات سے جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق یہ ایک اٹھارہ سال کی شہزادی کی حنوط شدہ لاش ہے جس کا نام کورالا گیان یا ٹنٹدل گیان ہے چوبیس سو سال پرانی اس ممی کا تعلق قدیم فارسی شاہی خاندان خمام النشیان سے تھا جہاں کا پہلا بادشاہ خرش الخبیر تھ
نیشنل میوزیم کراچی کی کیوریٹر ڈاکٹر اسماء ابراہیم نے ممی کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کی ہیں ان کے مطابق اندازہ اس ممی کا تعلق 590 یا 640 قبل مسیح کے زمانے سے لگتا ہے یہ زمانہ سائرس اول اور اس کے بھائی آریارامس کے دور حکومت کا تھا اس کے بھائی کے زمانے کی تختی اتفاقیہ طور پر ہمدان میں دریافت ہوئی ہے جس میں تکونی شکلیں بنی ہیں اور قدیم ایرانی تحریر لکھی ہوئی ہے یہ تختی قدیم ترین چیز ہے جس سے ساتویں قبل مسیح میں ایرانی قبائل کی ترقی کا پتہ چلتا ہے ہے ان کی حکومت نے حروف کی تعداد قدیم اشوریائ ایجاد سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھی اس کی سلطنت کی حدود فارس سے لے کر بلوچستان تک وسیع تھی دونوں بھائیوں کی حکومت میں قدیم عراق شام مصر یونان اور موجودہ پاکستان کے کچھ حصے بھی شامل تھے ۔
ممی کے لیبارٹری ٹیسٹ کے حوالے سے ڈاکٹر عثمان نے بتایا ہمارے میوزیم میں لائیو ٹیسٹ کی جدید سہولت دستیاب نہیں ہیں ہم اس سلسلے میں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ممی کا سٹی سکین اور دوسرے ٹیسٹ کرایا جاۓ فیر الحال ممی کو باہر لے جانا ممکن نہیں لاہور میں مکمل ٹیسٹ کی سہولت موجود ہیں مگر ہم وہاں بھی سکیورٹی کی وجہ سے امی کو نہیں لے جا سکتے ہیں ہماری کوشش ہے کہ یہاں رہ کر ہی اس کے تمام ٹیسٹ کیے جائیں سونے کی پلیٹ پر ملنے والی تحریر کے لیے ہم نے اسلام آباد میں مصر کے سفارتکار سے بات کی ہے وہ ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں امید ہے کہ چند روز میں مزید حقائق سامنے آجائیں گے ممی کی شناخت کے حوالے سے ماہرین اپنی رائے ابھی ترتیب دے رہے ہیں اس بارے میں احمد حسن نے اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کے خدوخال دیکھنے سے تو یہ کسی مصری شہزادی کی حنوط شدہ لاش معلوم ہوتی ہے لیکن اس کے سینے پر نہ سب پلیٹ پر تحریر قدیم فارسی زبان میں ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مصری شہزادی سائرس عظیم کے دور میں ایران لایا گیا ہوگا جہاں اس کی شادی ایران کے بادشاہ سے کر دی گئی ہوں اور شہزادی کے مطابق حنوط کر دیا گیا ہوں لاشوں کا تصور مصر میں پایا جاتا ہے جہاں اہم شخصیات اور شاہی خواتین کو مرنے کے بعد منجمد کرنے کا رواج تھا
احمد حسن دانی نے اسے ایک انوکھی دریافت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ممی کی اصلیت کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن ہی ممی کے چند حصوں کے کیمیکل ٹیسٹ کے بعد حقائق سامنے آ جائیں گے جس سے ہمارے تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے
ممی کی قیمت
ماہرین کے مطابق ممی کی قیمت کا تعین کرنا ناممکن ہے بیچنے والے نے اس کی قیمت ساٹھ کروڑ لگائی تھی اور چھوڑ کے آفر ملنے پر اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ایک اطلاع کے مطابق فرانس کا ایک عجائب کار اسم میں کے وقت ایک ارب دس کروڑ روپئے دینے کو تیار آئے حقیقت تو یہ ہے کہ جو چیز جتنی پرانی ہوتی ہے وہ اتنی ہی انمول ہو جاتی ہے اور انمول شاہ کو بیچا نہیں جاتا بلکہ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے یقینا یہ شہزادی بھی کسی کے لئے انمول ہو گئی کہ اس نے شہزادی کے مرنے کے بعد اسے دفنانے اے کے بجائے ممی کی صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا ہے اب یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ممی کی حفاظت کا بھرپور انتظام کرے بے شک یہ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے ممی کے قیمت کے حوالے سے ایک خبر یہ بھی سننے میں آئی ہے کہ مختلف انشورنس کمپنیوں نے میوزیم کے عملے سے ممی کا انشورنس کرانے کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں لیکن میوزیم حکام عام طور پر صرف انہیں نوادر کا انشورنس کراتے ہیں جن کو نمائش کے لیے بھی لے جانا ہوتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر چیز کروڑ پائے نا لیت رکھتی ہے جس کے لیے بھاری پریمیم ادا کرنا عجائب گھر کے لئے ممکن نہیں ہوتا

تبصرے

نام

اسلام میں خواتین کے حقوق,5,حالات حاضرہ,5,دین اسلام,8,سیرت اہل بیت,8,فقہی مسائل,2,مسلم حکمران,4,
rtl
item
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن: 2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی
2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی
2600 سو سال پرانی ایرانی شہزادی کی پراسرار ممی
لائبریری آف اسلامک انفارمیشن
https://isfolibrary.blogspot.com/2020/08/2600.html
https://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/
http://isfolibrary.blogspot.com/2020/08/2600.html
true
5962244918716344721
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy