کلام پیغمبر کی گہرائی
کلام پیغمبر کی گہرائی
بزرگوں کے کلام کی اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ان کے علامات میں بہت سے ایسے بریک نقاط پوشیدہ ہوتے ہیں جنہیں لوگ درک کرسکتے ہیں خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کلام کے بارے میں خود ارشاد فرمایا ہے ہے
"خدا نے مجھے جامع کلمات عطا کئے ہیں ہیں"
یعنی خدا نے مجھے یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ میں ایک مختصر جملے میں مفاہیم کی ایک نیا بیان کر سکتا ہوں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ہر شخص سنتا ہے لیکن کیا سننے والا ہر فرد کماتا کے کلام کی گہرائی تک پہنچ سکتا ہے ہرگز نہیں شاید سو میں سے ننانوے بھی نہیں پہنچتے دیکھتے ہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس بات کی پیش بینی کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک جملہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے جو کلامات تم مجھ سے سنتے ہو انہیں معاف وذکرو ان کی حفاظت کرو اور آئندہ آنے والی نسلوں کے حوالے کرو ممکن ہے مستقبل قریب اور بعید میں آنے والی نسلیں میری باتوں کو میرے سامنے موجود تمام لوگوں سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
"خدا سرخرو کرے اس بندے کو جو میری بات سنیں اسے یاد رکھے اور ان لوگوں تک پہنچائے جنہوں نے اسے مجھ سے نہیں سنا"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بعض اوقات کچھ لوگوں کے پاس ایک گہرا کلام ہوتا ہے لیکن وہ خود برے نہیں ہوتے وہ ہمیشہ ایک جملہ نقل کرتے ہیں لیکن خود اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے مایا بسا اوقات اس کوئی جملہ کوئی پہ ہوتی ہے یعنی ہوا کوئی جملہ یاد ہوتا ہے تو وہ کیا بھی ہوتے ہیں لیکن اس جملے کو ایک ایسے شخص کے سامنے نقل کرتے ہیں جو خود ان سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے یعنی ایک ایسے شخص کے سامنے نقل کرتے ہیں جو خود ان سے زیادہ عمیق ہوتا ہے اور اس کی فکر کی گہرائی سے زیادہ ہوتی ہے
جس شخص کے لئے نقل کیا جاتا ہے وہ ان چیزوں کو سمجھ جاتا ہے جنہیں وہ نقل کرنے والا شخص نہیں سمجھ پاتا اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جوں جوں صدیاں بیت رہی ہیں ہر شعبے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی زیادہ سے زیادہ گہرا یا منکشف ہو رہی ہیں۔پہلی اور دوسری صدی کے لوگ تیسری صدی کے لوگوں کی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات کی گہرائی تک کسی صورت نہیں پاؤں سکتے تھے اور نہ تیسری صدی کے لوگ چوتھی صدی کے لوگوں کی طرح اور نا چوتھی صدی کے لوگ پانچویں صدی کے لوگوں کی طرح۔
اسلامی علوم کی تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے اگر آپ اخلاق کا مطالعہ کریں فقہ کا مطالعہ کریں معارف اور فلسفے کا مطالعہ کریں عرفان کو دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ جس موضوع پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام فرمایا ہے ترین واقعہ اس کلام کی گہرائی کو بہتر طور پر سکے ہیں مسلم کا معجزہ ہے۔
تبصرے