عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار
اقوام متحدہ میں مغربی طاقتوں نے جو اسرائیل بنایا تھا وہ نہایت کمزور ملتا تھا اس کو جو مسائل درپیش تھے پہلا مسئلہ یہ کہ جس علاقے پر یہ ریاست قائم ہونی تھی وہاں اکثریت فلسطینی مسلمانوں کی تھی دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس ریاست کے شمالی اور جنوبی حصے کا رابطہ دس کلو میٹر چوڑی پٹی پر مشتمل تھا اس ریاست کے تل ابیب جیسے اہم رہائشی اور معاشی علاقے بھی اسی تنگ پٹی میں موجود تھے کسی بھی جنگ کی صورت میں اس ریاست کو مغربی امداد پہنچنے سے پہلے نابود کیا جا سکتا تھا سے ہوں میں قیادت نے پہلے مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ ان میں سے جانا جانے والا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں اس علاقے کے اکثر فلسطینی اپنے گھر بار کو چھوڑ کر پڑوسی عرب ممالک میں مہاجرین حسین بن گئے اقوام متحدہ نے ایک قرارداد میں اس بے دخلی کی مذمت کی اور فلسطینی مہاجرین کی اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں میں واپسی کی سفارش کی اور یہ بھی کہا کہ اگر یہ لوگ واپس نہ آ سکے تو ان کی اولاد واپسی کا حق رکھتی ہیں حال ہی میں سامنے آنے والی تاریخی دستاویزات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس قتل عام سے پہلے سے ہونی قیادت نے اردان کے بادشاہ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان فلسطینوں کے انخلا کو پناہ دینے کے نام پر یقین یقینی بنائے گا یہاں سے اردو دان کے شاہی خاندان کے صہیونی ریاست سے پرانے تعلقات کا پتہ چلتا ہے نیز یہ بات سمجھنے میں کوئی ابہام نہیں رہتا کہ کیوں اردان نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے اور کیوں مردان میں کسی عرب بہار یا انقلاب کا نام و نشان نہیں ملتا اس قتل عام کے ردعمل میں ابہام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے سدباب کے لیے انیس سو اڑتالیس میں مصر اور شام کی حکومتوں میں اسرائیل پر حملہ کیا جو اسرائیل کی بھرپور تیاری اور جدید ہتھیاروں کے سامنے پسپا ہو گیا تلواریں بندوق اور گھوڑے جدید مشینوں توپوں اور فضائیہ سے ہار گئے اسرائیل نے فلسطینی اکثریت کے باز دیگر علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا جن کے باسی آج اسرائیل کے عرب شہری کہلاتے ہیں اور نسلی امتیاز کا نشانہ بنتے رہتے ہیں آپ اسرائیل شام اور لبنان کا پڑوسی بھی بن گیا تھا
اسرائیل کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کا دوسرا موقع اس وقت ملا جب مصر میں جمال عبدالناصر نے فرانس اور برطانیہ کے نہر سونیر پر قبضے کے خلاف حکم جاری کرتے ہوئے نہر سوئز کو قومی تحویل میں لے لیا نہر سویز کو 1869 میں فرانس کی ایک کمپنی نے تعمیر کیا تھا اور اس وقت کے مصری بادشاہ سے معاہدہ کیا تھا کہ یہ نہر اگلے سو سال تک اس کمپنی کی ملکیت رہے گی معاہدے کے مطابق مصر کو 1969 میں اس نہر کا قبضہ ملنا تھا مگر جمال عبدالناصر نے 1956 میں اس کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا اسرائیل نے اس موقع کو غنیمت جانا اور فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا اور اسی دوران فرانس سے ایٹم بم بنانے کے لیے نکلیر لیبارٹری بھی خرید لی امریکہ نے اس جنگ سے پہلے اجازت طلب کیے جانے کی مذمت کی اور جنگ بندی کرا دی اس جنگ میں اسرائیل برطانیہ یہ اور فرانس سے اور اسرائیل کے سوا کسی فوری کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا مصر اور شام نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے عزائم کو دیکھ کر اپنی فوجی طاقت میں اضافہ شروع کر دیا
اب اسرائیل کے لیے اگلا تھا شام کی سرحد کے موجود پہاڑیاں تھیں یہ پہاڑی سلسلہ جولان کہلاتا ہے یہ جنگ اخبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اس سلسلے کی اہم بات شام کی طرف موجود قدرتی حسن تک ہے جو شامی فوج کی شام سے اسرائیل کی جانب نقل و حرکت کے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں دوسری بات یہ کہ یہاں پانی کے ذخائر موجود ہیں جن پر قبضے کے بعد مشرق وسطی کے صحرا میں ہرے بھرے اسرائیل کا خواب پورا ہو سکتا تھا 1967 میں جمال عبدالناصر نے حسب معمول بول دیں گے مارتے ہوئے صحرائے سینا میں موجود اقوام متحدہ کے امن لشکر کو مصر سے نکال دیا اس فضا نے اسرائیل کو ایک اور موقع فراہم کیا مصر جنگ کے آغاز کے لیے تیار نہیں تھا اسرائیل نے اچانک مصر اور شام کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے دونوں ممالک کی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچایا یہ جنگ چند روز جاری رہی اور اسرائیل نے جولان کی پہاڑیوں اور مصر کے صحرائے سینا پر پر قبضہ کر لیا شام کی حکمران بحث پارٹی کے مرکزی قائدین میں حافظ الاسد نے ان تمام واقعات اور عرب کی قیادت کی حماقت کو قریب سے دیکھا تھا اب نہ سر اصل کے اعتبار سے پسماندہ تھے بلکہ ان کی انٹیلی جنس ایجنسی اسرائیل کے منصوبوں کے بارے میں درست اطلاعات حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی تھی شام کی پیمنٹ 20 پارٹی کی کی حکومت کی طرف سے عوامی فوج جیسے غیر پیشہ ورانہ منصوبے ناکام رہے تھے اسی طرح ملک میں آمرانہ معاشی قوانین کی وجہ سے گھٹن میں اضافہ ہوا تھا حکومت اور عوام میں دوریاں تھی شام کی حکومت خارجی تعلقات میں بھی تنہائی کا شکار ہو گئی تھی
1970 میں اردن کے شاہ نے پاکستانی برگیڈئیر ضیاء الحق کی قیادت میں فلسطینی مہاجرین کا قتل عام کرایا ضیاءالحق اس وقت ایک تربیتی مشن پر اردان میں تعینات تھا واپسی پر اس کو ترقی دے کر پہلے کورکمانڈر اور بعد میں چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا شام کی حکومت نے اس وقت اردو پر پر حملہ کے سوال پر غور و فکر کیا اس وقت وزیر دفاع حافظ الاسد نے فلسطینیوں کے جانی نقصان کو کم سے کام رکھنے کے لیے زمینی فوج کا ایک برگیڈ فلسطینی قیادت کے زیر اثر قرار دیا شام اردن سے مکمل جنگ کا اعلان نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مکمل جنگ کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اردو کی حمایت کے نام پر شام پر ایسا حملہ متوقع تھا جس کے لیے شامی فوج کیا نہیں تھی حافظ اور اس کے دوست 23 سالوں سے داخلی انتشار اور کمزوریوں کی اصلاح کی کوشش کر رہے تھے اور دن میں ہونے والے کے بعد حافظ الاسد نے حکمران جماعت اور حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لیں شام اسرائیل کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں چلا رہا ہے اس حالات میں حافظ الاسد نے جہاں شام اور اس سے باہر انٹیلی جنس ایجنسیوں کا جال بچھایا اور شام میں جدید علوم اور صنعت کو فروغ دیا وہاں داخلی اعتبار سے کچھ سخت اقدامات بھی اٹھائے تاکہ اس جنگ کے دوران اندرونی دشمنوں کے وار سے محفوظ رہا جا سکے کے
6 اکتوبر 1973 میں جب اسرائیل میں چھٹی کا دن تھا حافظ الاسد اور مصر کے انور سادات نے اسرائیل پر حملہ کردیا یہ پہلی عرب اسرائیل جنگ تھی جو عرب قیادت نے شروع کی تھی اس لیے بھرپور تیاری کی گئی تھی اور اسرائیلی اس حملے کی بھنک نہیں پڑی تھی اسرائیل کے ایٹمی حملے کے جمع کر لیے تھے یہ حملہ نہایت کامیاب رہا اور شان کے کے جو لان کی پہاڑیوں میں پیش قدمی شروع کر دی لیکن اسی وقت انور سادات نے سر آئینہ میں اپنی فوج کی پیش قدمی روک لی انور سجاد کی وقتی پیشقدمی اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گی وہ امریکہ سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہونے کی وجہ سے اسرائیل پر کوئی تاریخ آر لگانے کا کہہ نہیں تھا دوسری طرف اسلحے سے بھرے امریکی جہاز اسرائیل کی بندرگاہوں پر آنے لگے شام کی فوج جو کہ اسرائیل کے لیے سب سے سب سے قریبی خطرہ تھی اسرائیل اور امریکہ نے اپنے تمام زور شام پر حملے میں صرف کر دیا شام کے کچھ قصبوں کو آزاد کرانے کے بعد جولان کی پہاڑیوں میں شامی فوج کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا اور وہ پہاڑیاں آزاد نا کرائے جا سکیں البتہ اس جنگ کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ شام نے قنیطرہ کا علاقہ واپس لے لیا اور یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شامی فضائیہ کی مدد کے لیے لیے پاکستانی پائلٹوں کا دستہ بھیجا
اسرائیل نے شام کا حملہ پسپا کرنے کے بعد انور سادات کو بھی اس کی حماقت کا سبق سکھایا اور مصر پر حملہ کرکے اس کی فوج کو دارالحکومت قاہرہ سے صرف 80 کلومیٹر کے فاصلے تک کھیل دیا اب مذاکرات میں اسرائیل کا پلڑا بھاری ہو گیا تھا چھت سال تک چلنے والے اس رات کے سلسلے میں حافظ الاسد نے یہ موقف اپنایا کے اسرائیل کے ساتھ اربوں کے تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا چاہئے وہ اس بات کا قائل تھا کہ کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کو قبضے میں لیے گئے علاقے ترک کرنے اور گھروں سے نکالے گئے فلسطینی واپس اپنے علاقوں میں پہنچائے جانے چاہئیں البتہ امریکہ اور اسرائیل مصر اور شام کو عرب اسرائیلی تنازع کی مساوات سے خارج کرنا چاہتے تھے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے تعریفیں کر کے انور سادات کو شیشے میں اتار لیا تھا انور سادات سب اصولی باتوں سے منہ پھیر لیا مصر نے صحرائے سینا کا علاقہ واپس ملنے کی شرط پر اسرائیل کو تسلیم کر لیا مگر شام نے فلسطین کا مسئلہ حل کئے بغیر اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا البتہ اسرائیل نے مصر کے مزاحمت سے نکل جانے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات پر اعتکاف نہ کیا انہوں نے ان سے یہ بھی منوایا کے صحرائے سینا میں کم فوج گے کشتیوں کو نہر سوئز سے مفت گزر کا فراہم کرو گے حافظ الاسد نے اس شہادت کے بعد مصر سے تعلقات ختم کر دیئے حافظ الاسد کی ایک خوبی عالمی قوتوں کے اعلی تربیت یافتہ مذاکرات کاروں کے ساتھ کسی معاملے کی نوعیت اور تفصیلات پر گھنٹوں مذاکرات کرنے کی اہلیت تھی یہ عین معاملات کے بارے میں اس کے گہرے مطالعے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہانت اور اس کی حاضر دماغی کی دلیل تھی یہ مذاکرات نعت بعض اوقات دس دس گھنٹوں تک چلتے رہتے تھے کبھی کوئی معاہدہ یا اعلامیہ جاری نہیں کیا ہنری کسنجر اس چیز کا احساس ہو گیا کہ اسرائیل کے لئے اصلی رکاوٹ اسد آئے اور اسد کو ہٹانے کے سوا امریکہ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے
امریکہ ویتنام کی جنگ میں براہ راست مداخلت سے سبق سیکھ چکا تھا اب اس نے اپنی جنگ فرقہ پرست تنظیموں کے کندھوں پر رکھنے کا گر سیکھ لیا تھا اس فارمولے کا کامیاب تجربہ افغانستان میں جاری تھا جہاں فرقہ پرست تنظیموں کے ہزاروں مسلح افراد پرائزنگ لگ رہے تھے شام کی سنی فرقہ پرست تنظیم اخوان المسلمون میں شروع سے ہی ہیں فرقہ وارانہ رنگ سا رہا ہے حافظ الاسد کا تعلق علوی فرقے سے تھا اور اس بات نے اخوان المسلمون کے تنگ نظر کارکنان کو غیض و غصب سے بھر رکھا تھا جس وقت مذاکرات کی میز پر حافظ الاسد عربوں کے مفادات کی جنگ لڑ رہا تھا شامی ان المسلم نے شام میں علویوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں سینکڑوں بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار اتار دیا یا یہاں تک کہ ایک مرتبہ حافظ الاسد کی طرف دو گرنیٹ پھینکے گئے جن میں سے ایک ہوس نے اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے دور کیا اور دوسرے پر ایک شامی فوجی نے لے کر امت کے اس عظیم سیاسی سرمائے کو بچایا یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ انیس سو بیاسی میں ہما شہر پر سوات کے طالبان کی طرح قبضہ کر کے طالبانی دانوں نافذ کر دیا گیا سرکاری اداروں کے بےگناہ اہلکاروں کو ذبح کر کر دیا گیا یہ عالم اسلام کی جدید تاریخ میں دہشت گردوں کی پہلی بڑی فتح تھی حافظ الاسد نے اس شہر کو فوج کے حوالے کردیا ایک مہینے کی لڑائی کے بعد اخوان المسلمون کو شکست ہوگی
شام ایک ایسا ملک ہے جہاں متعدد اقوام اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں ایسے میں ایک فرقہ پرست جماعت کا اسلحہ اٹھا کر کسی شہر پر قبضہ کرنا بیوقوفی ہے لیکن ان فرقہ پرست تنظیموں کا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اپنی سیاسی قیادت ان کے ہاتھوں میں دینے کو آمادہ نہیں ہوتے وہ ان کے زیر اثر رہنے کو پسند نہیں کرتے اگر کسی حکومت کو بدلنا چاہیں تو اس کا آسان راستہ سول نافرمانی اور لاکھوں کی تعداد میں اہم شہروں کی سڑکوں پر پر نکل کر حکومت کو مفلوج کرنا ہوتا ہے کوئی حکومت شہریوں کی شمولیت کے بغیر نہ ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے اور نہ فوج پولیس انتظامیہ مواصلات صحت اور تعلیم جیسے اہم محکمے چلا سکتی ہے اگر اخوان المسلمون کو سیاسی تحریک کی کامیابی کی ذرا سی بھی امید ہوتی تو وہ کبھی اس صلح نہ اٹھاتی اکثر مذہبی تنظیمیں بہت زیادہ تنگ نظر ثابت ہوتی ہیں اور یہی صورتحال اخوان المسلمون کو درپیش رہی ہے جو اپنی تنظیم کے کارکنان کو بڑی بڑی شخصیات پر ترجیح دیتی ہے حال ہی میں خفیہ دستاویزات کے سامنے آنے پر معلوم ہوا ہے کہ امریکہ نے انیس سو تراسی میں صدام حسین کو شام پر حملہ کا مشورہ دیا تھا یہ وہی زمانہ تھا جب شام میں اخوان المسلمون کی سو سورش بر چکی تھی لیکن صدام اس وقت ایران عراق جنگ میں پھنسا ہوا تھا اور شام کی فوج عراق کی فوج سے کہیں زیادہ تربیت یافتہ اور مضبوط تھی
اس دوران لبنان میں اسرائیل کا انداز یا بہت بڑھ چکی تھی اور وہاں مسلم مسیحی فسادات عروج پر پہنچا دیے گئے تھے عرب لیگ نے شام سے لبنان کی خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے فوج بھیجنے کی اپیل کی جس کا حافظ الاسد نے مثبت جواب دیا اور کافی حد تک فسادات کو کنٹرول کیا مصر سے جان چھڑا لینے اور شام میں اخوان المسلمون کی مدد سے سورج گرم کرنے کے بعد اسرائیل نے لبنان کی سرسبز زمین کو کو اپنے زیر تصرف لانے کے لیے حملہ کردیا یہ آنسو 82 کا سال تھا لبنان میں اسرائیل نے مسیحی تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے صابرہ اور اور چشتیاں کے علاقوں میں فلسطینیوں کا قتل عام کرایا اسرائیل نے لبنان کے جس جنوبی علاقے پر قبضہ کیا تھا وہ شیعہ اکثریت کا علاقہ تھا اسرائیل کے شمال میں واقع یہ چھوٹا مگر سرسبز لا کا اپنے دریاؤں اور زراعت کی وجہ سے اسرائیل کی غذائی ضروریات اور زرعی صنعت کے لیے موزوں تھا شامی فوج نے آگے بڑھ کر اسرائیل کو مزید پیش قدمی سے روک لیا دوسری طرف حافظ الاسد نے شیعہ رہنماؤں کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے عوام کو ہجرت سے روکیں کیونکہ اگر انہوں نے فلسطینوں کی طرح ایک مرتبہ ہجرت کر لیں تو اسرائیل اس علاقے میں ان کو واپس نہیں آنے دے گا حافظ الاسد نے ایران سے رابطہ کرکے اللہ کی بنیاد رکھی اور اس کو تمام تربیت اور انٹیلیجنس سپورٹ کی اس تنظیم نے 18 سال آزادی کی جنگ لڑ کر سن 2000 میں اسرائیل کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ایران میں انقلاب کے بعد شام تنہا نہیں رہا تھا بلکہ اسے ایران کے ایک مضبوط اتحادی میسر آ گیا تھا 90 کی دہائی میں یاسر عرفات کی طرف کرنے اور اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد حافظ الاسد نے فلسطینی مزاحمت کی تنظیم حماس کی بھی بنیاد رکھی حزب اللہ اور حماس کی قیادت نے ہمیشہ اس سلسلے میں شام کی امداد کا شکریہ ادا کیا ہے اسرائیلی قبضے سے جنوبی لبنان کی آزادی گزرا سے اسرائیلی بستیوں کا خاتمہ نہ صرف شام کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ہے اب بھی اگر اسرائیلی حملوں کے سامنے ہم اس مزاحمت کرتی ہے تو اس کا سبب شام کی بہتری مدد ہے کوئی بھی مزاحمتی گروہوں کسی ملک کی پشت پنائی کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا
تبصرے